Posts

خطاب جمعہ

Image
قوموں کی تعمیر و ترقی میں تعلیم کا کردار        محمد  قمرالزماں  ندوی               دوستو بزرگو اور بھائیوں    انسان کے زندہ رہنے کے لئے کھانا، پانی اور ہوا یہ تینوں چیزیں ضروری اور لازمی ہیں۔ اس کے بغیر ایک دو دن یا زیادہ سے زیادہ ایک آدھ ہفتہ تک انسان زندہ رہ سکتا ہے اس کے  بعد زندہ رہنا تو ایک کرامت ہوگی۔   تو جس قدر انسان کے زندہ رہنے کے لئے ان چیزوں      (پانی-خوارک اور ہوا) کا ہونا ضروری ہے اتنی ہی ضرورت انسان کے لئے تعلیم کی بھی ہے۔ علم کے بغیر انسان کی شخصیت  ناقص اور نامکمل ہے، اس کے بغیر انسان صحیح زندگی نہیں گزار سکتا۔ اپنے پیدا کرنے والے اور اپنے پیدا ہونے کے مقصد کو نہیں جان سکتا وہ خیر و شر اور صحیح اور غلط میں تمیز نہیں کر سکے گا۔ بر صغیر کے ایک بلند پایہ عالم اور مفکر کی زبان سے نکلا یہ جملہ آج بھی حافظہ میں محفوظ ہے کہ انہوں فرمایا تھا،،کہ دنیا کی سب سے بڑی اور بری گالی یہ ہے کہ کسی کو یہ کہہ دیا جائے کہ تم جاہل ہو-  اس سے بڑھ کر کوئی گالی نہیں ہوسکتی۔ اس ک...

پیغام عیدالفطر

Image
عید کا پیغام , امت کے نام                محمد قمرالزماں ندوی               منگل کو ہم سب روزے کی تکمیل کے شکرانے کے طور پر  عید کی دو گانہ ادا کریں گے، خوشیاں منائیں گے اور ایک دوسرے کو عید کی مبارکباد پیش کریں گے۔ معافی تلافی کر گلے شکوے دور کرکے ایک دوسرے سے قریب ہوں گے،  ایک دوسرے سے چشم پوشی اور درگزر کرتے ہوئے، محبت، الفت اور بھائی چارے والی زندگی گزارنے کا عزم اور اظہار کریں گے۔ نیز اس پر عمل بھی کریں گے۔ عید کیا ہے؟     عربی زبان میں ہر ایک مکرر یعنی دوبارہ آنے والی کیفیت کو خواہ خوشی ہو یا غم عید کہتے ہیں، عرف عام میں یہ خوشی کے دن کے لئے مخصوص کر لیا گیا ہے ۔ علماء اور اہل علم نے عید کا مفہوم اور اس کی تشریح اس طرح بھی کی ہے کہ مہینہ بھر کی روحانی و نورانی ریاضتوں اور نفسانی و اخلاقی طہارتوں و پاکیزگیوں کے بعد ایک نئی روحانی زندگی کے عود کر آنے کی وجہ سے بھی اس کو عید کہا جاتا ہے۔   ایک مہینہ خدا کے واسطے اور اس کے حکم کی بنا پر مومن بندہ بھوک و پیاس کی مشقتیں بردا...

رمضان احتساب اور سابقہ زندگی کے جائزہ کا مہینہ ہے

Image
رمضان احتساب اور اپنی سابقہ زندگی کا جائزہ لینے کا ایک بہترین موقع ہے، ہر شخص آسانی سے دیکھ سکتا ہے کہ اس نے گزشتہ رمضان سے اس رمضان تک کیسی زندگی گزاری اور اس نے دینی حیثیت سے کہاں تک ترقی کی ہے، ،۔  (ماہ رمضان ایک روحانی سفر 45۔ 46)       تحریر: محمد قمرالزماں ندوی       اللہ تعالی کا یہ خاص فضل و کرم اور احسان  عظیم ہے کہ ہم ایمان والوں کو پھر رمضان المبارک کا مہینہ نصیب ہوا ہے، جس کے زیادہ تر ایام گزر چکے ہیں، اب چند دن ہی رہ گئے ہیں، رمضان المبارک کا یہ مہینہ تمام مہینوں  سےافضل اور مبارک مہینہ ہے ،  اس مہینہ کی نسبت اللہ تعالی نے اپنی طرف کی ہے۔ یہ مہینہ رحمت خداوندی کا وہ موسم بہار ہے، جس میں   اللہ تعالی کے خاص انعامات اور عنایتیں بندوں کی طرف متوجہ ہوتی ہیں۔ جس میں بے شمار انسانوں کی مغفرت کیجاتی ہے اور جسکی ہر ساعت اور ہر لمحہ و گھڑی عذاب دوزخ اور نار جہنم سے آزادی کا پیام لے کر آتی ہے ۔   اس مہینہ میں بندے کے لئے نیک اعمال کرنا ، گناہوں کو بخشوانا اور آخرت کو سنوارنا اللہ تعالی آسان کر دیتا ہے اور مومن بندے...

مالداروں کے لئے صدقۂ فطر میں گیہوں کا نصاب مناسب نہیں

Image
  صدقۂ فطر  کی حکمت اور احکام و مسائل     تحریر: محمد قمرالزماں  ندوی              صدقۂ فطر  در اصل روزہ میں واقع ہونے والی کوتاہی اور نقص و کمی کی تلافی اور غرباء کو عید الفطر کے موقع پر اپنی خوشی و مسرت میں شریک کرنے کا ذریعہ ہے، اسی لئے ہر صاحب نصاب پر یہ صدقۂ فطر واجب ہے ۔      مذہب اسلام اور شریعت اسلامی کا مزاج یہ ہے کہ جب بھی   کوئی عید و تہیوار اور خوشی و مسرت کا موقع آئے تو صرف امیروں اور مالداروں کے دولت کدہ اور محلوں ہی میں خوشی و مسرت اور فرحت و شادمانی کا چراغ اور قمقمے نہ جلے، بلکہ ضرورت مندوں، غریبوں، محتاجوں اور ناداروں کے غربت کدہ اور جھونپڑیوں میں بھی خوشی و مسرت کی روشنی پہنچے اور قمقمے جلیں ۔ اسی لئے شریعت میں ہر ایسے موقعہ پر سماج کے غریب اور محتاج افراد کو یاد رکھنے اور اپنی خوشی میں شریک کرنے کی تلقین کی گئی ہے ۔ اسی لئے  بقرعید کے موقع پر بھی قربانی میں ایک تہائی حصہ غریبوں کا حق قرار دیا گیا ہے ۔ ولیمہ کے بارے میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا  ...

جس کی خزاں یہ ہو ، اس کی بہار مت پوچھ

Image
  آخری اسلامی خلیفہ سلطان عبدالحمید ثانی کا اسلامی  کردار تحریر : محمد محمد حارث سلطان عبدالحمید ثانی (پ۔ 1842، م۔ 1918) جو کہ 1876 سے 1909 تک اسلامی خلافت کے آخری خلیفہ اور بقول بعضے اسلامی ملوکیت کے آخری بادشاہ گزرے ہیں ۔وہ بقلم خود اپنی معزولی کی وجہ اپنے مرشد جناب محمودابوالشامات کو ایک خط میں ان الفاظ میں لکھتے ہیں میں آپ کی خدمت میں اور آپ جیسے دوسرے ارباب عقل کی خدمت میں ایک اہم مسئلہ پیش کر تاہوں تاکہ یہ امانت تاریخ کی حفاظت میں آ جائے ۔ میں خلافت اسلامیہ سے صرف اس لئے الگ ہوا ہوں کہ مجھے انجمن اتحاد و ترقی کی طرف سے بہت تنگ کیا گیا، دھمکیاں دی گئیں اور خلافت ترک کرنے پر ازحد مجبور کر دیا گیا ۔ سبب یہ ہوا کہ ان اتحادیوں نے مجھ سے بار بار اصرار کیا کہ سر زمین فلسطین میں یہود کے قومی وطن کی تاسیس پر اتفاق کرلوں ۔ ان کے پیہم اصرار کے باوجود میں یہ بوجھ اٹھانے پر راضی نہ ہوا۔ اخیر میں ان لوگوں نے پندرہ کروڑ برطانوی لیرہ سونا دینے کا وعدہ کیا ۔ میں نے قطعی طور پر اس تجویز کو ٹھکرا دیا اور انھیں یہ دو ٹوک جواب دیا : اگر تم لوگ پندرہ کروڑلیرہ سونے کے بجائے دنیا بھر کا سونا دو...

غزوۂ بدر ، یوم الفرقان

Image
  حق و باطل کا پہلا معرکہ، غزوہ بدر  جو ۱۷ رمضان کو پیش آیا    تحریر : محمد قمر الزماں ندوی        غزوہ بدر ۱۷/ رمضان ۲ ہجری کو پیش آیا، یہ اسلام کا پہلا اور فیصلہ کن جنگ تھا،جس میں اسلام نے کفر کو شکست فاش دی۔ قرآن مجید میں اس کو یوم الفرقان کہا گیا ہے، اس غزوہ کی تفصیل قرآن و حدیث میں تفصیل سے موجود ہے۔ ۱۷/ رمضان المبارک  غلبہ اسلام اور کفر کی شکست اور پسپائی کا دن ہے۔ یہ دن ہمیں ہمت، حوصلہ، بہاری،عزیمت اور شجاعت کا پیغام دیتا ہے۔ یہ دن اور تاریخ ہمیں افراد، ساز و سامان اور طاقت و قوت پر نظر کیے بغیر ۔۔۔۔۔۔۔  اللہ کی راہ میں ڈٹ جانے کا حوصلہ بخشتا ہے ۔ اور  اللہ کے دین اور کلمے کو بلند کرنے کا جذبہ پروان چڑھاتا ہے۔ اور یہ احساس دلاتا ہے کہ وہ کیا تھے اور کس بلندی پر تھے اور ہم کیا ہیں اور کہاں پہنچ گئے ہیں۔۔۔۔  وہ تین سو تیرہ تھے تو لرزتا تھا زمانہ آج ہم کروڑوں میں ہیں تو کرتے غلامی          غزوہ بدر دو ہجری رمضان المبارک کی سترہ تاریخ کو پیش آیا، یہ جمعہ کی رات تھی، صبح نمودار ہوئی تو قریش اپنے تمام ...

قرآن کریم کا اعجاز

Image
جسکو اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کی حفاظت  کے لئے منتخب کر لیا ہے، وہی ہے  حافظ قرآن   ،شُکریہ مولوی صاحب ،شُکریہ حافِظ صاحب ،شُکریہ مَدارِس ر ات تراویح پڑھی ،نماز سے قبل سوچ رہا تھا کہ آج پوری دُنیا میں حفاظ کرام  الله کریم کا قُرآن مُنہ زُبانی سُنائیں گے پُوری بیس رکعتوں میں کہیں سوا پارے کی تو کہیں زیادہ کی ترتیب ہوگی طاغوت کے دل میں بیٹھ کر کوئی حافظ، قرآن سنا رہا ہو گا تو کوئی کعبے کے مطاف میں سنا رہا ہے گاؤں گاؤں قریہ قریہ گلی گلی مُلکوں مُلکوں  مساجد میں قرآن کے زمزمے ہیں۔ کسی یونیورسٹی میں حفظِ قرآن کا کوئی بندوبست نہیں  شعبہ تحفیظ قرآن " نام کے کسی شعبہ سے یونیورسٹی کے در و دیوار نا آشنا ہیں کسی کالج میں بھی کوئی مضمون تحفیظ کا نہیں  کسی اسکول میں بھی کوئی ترتیب نہیں سوائے چند اسلامی اسکولوں کے لیکن  ان کے نتائج بھی مایوس کن ہی ہیں  پھر یہ لاکھوں مساجد کو حفاظ کس نے مُہیا کئے؟ کہاں سے پھوٹ پڑے اتنی بڑی تعداد میں حفاظ؟  کس نے تیار کئے یہ حافظ صاحبان؟  کہیں بھی تو قرآن کے حفظ پر کسی نوکری کا وعدہ نہیں پھر کون ہیں جو اپنے بچوں کے...